
خیریت نامہ میں ایک لمبے سفر سے زندہ، صحیح و سالم جو واپس آیا تو کوئی پہچان ہی نہ پایا ہر ایک یوں مجھ کو دیکھتا تھا کہ جیسے میری جبیں پہ آنکھیں اُ گ آئی ہوں اور میرے شانوں سے چار بازو لٹک رہے ہوں کہ جیسے سب شیشہ تاب آنکھوں میں بال میرے کھٹک رہے ہوں ہر ایک یوں مجھ کو دیکھتا تھا !کہ جیسے میرا وُجود مشکوک ہو خدایا کہ جیسے میں ہوں کسی کھنڈر کی اکیلی بیری کا کوئی سایہ میں ایک لمبے سفر سے زندہ صحیح و سالم جو واپس آیا تو کوئی پہچان ہی نہ پایا