مینارِ ابد

یہ سرو کی طرح سرکشیدہ

وفا کی تاریخ کا جریدہ

 

یہ اک شجر دردِ آرزو کا

یہ ایک شجرہ مرے لہو کا

 

یہ ایک وحدت کا استعارہ

یہ اک محبّت کا استعارہ

یہ اک اشارہ

کہ اِس زمیں پر

ہزار سورج، ہزار اختر

ہزار مہتاب جاگتے ہیں

ہماری آنکھیں ہیں جن سے روشن

وہ سب کے سب خواب جاگتے ہیں

 

چمک رہے ہیں یہ خواب دیکھو

سیاہ کانٹوں کے درمیاں بھی

مہک رہے ہیں گلاب دیکھو

زمیں پہ جُھکتا ہے آسماں بھی

ہوا میں ڈھولک کی تھاپ جیسے

کنواریوں کی الاپ جیسے

 

نئی اُمنگوں کی نرم بیلیں

مچل رہی ہیں کہ حلقہ حلقہ

حصار میں زندگی کو لے لیں